ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاپنچایت: زرعی بل اور ہاتھرس واقعہ کے خلاف متھرا میں جینت چودھری کا اعلانِ جنگ!

مہاپنچایت: زرعی بل اور ہاتھرس واقعہ کے خلاف متھرا میں جینت چودھری کا اعلانِ جنگ!

Tue, 13 Oct 2020 11:39:38    S.O. News Service

متھرا،13؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ہاتھرس میں سابق وزیر اعظم چرن سنگھ کے پوتے جینت چودھری نے لاٹھی کی چوٹ کھانے کے بعد حکومت کو گہری چوٹ پہنچانے کا عزم کر لیا ہے۔ 8 اکتوبر کو مظفر نگر میں زبردست پنچایت کرنے کے بعد پیر کے روز جینت چودھری نے کسانوں کے ایشو کو لے کر متھرا میں ایک مہاپنچایت کی۔ اس پنچایت کو 'کسان بچاؤ پنچایت' کا نام دیا گیا۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں کسان جمع ہوئے۔ جینت چودیر نے اس موقع پر زرعی بل کی پرزور تنقید کی اور حکومت کو تاناشاہ تک کہہ ڈالا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ 17 اکتوبر کو بلند شہر میں مزید ایک پنچایت ہوگی اور جب تک زرعی بل واپس نہیں لے لیا جاتا تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

متھرا میں ہوئی پنچایت میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر سابق رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو اور ہریانہ کے کسان لیڈر ابھے چوٹالہ نے بھی شرکت کی۔ اس پنچایت میں مقررین نے حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جینت چودھری نے متھرا کے لوگوں سے خون کا رشتہ بتاتے ہوئے کہا کہ "لاٹھی کا جواب تو دینا ہی ہوگا۔ اب لاٹھی کی پروا نہیں ہے۔ تاناشاہی سرکار کو ہٹانے تک جدوجہد جاری رہے گا۔" انھوں نے مزید کہا کہ "حکومت پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کرتی ہے۔"

جینت چودھری نے کہا کہ ان کی فیملی ایک باعزت فیملی ہے، جس میں ان کے دادا چودھری چرن سنگھ سے لے کر ان تک کا رشتہ کسانوں کے ساتھ گھر جیسا رہا ہے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے اپنی دادی، بوا اور بہنوں کا بھی تذکرہ کیا۔ اس درمیان جیت چودھری نے یو پی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ریاست میں کسی بہن یا بیٹی کے ساتھ کچھ غلط ہوگا تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے، کیونکہ ان کی رگوں میں چودھری چرن سنگھ کا خون دوڑتا ہے، جنھوں نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی تعلیم دی ہے۔" انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ سبھی کسان ان کے اپنے ہیں اور ان سے خون کا رشتہ ہے۔

آر ایل ڈی لیڈر جینت چودھری نے ہاتھرس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اور اپنی بات کو آگےبڑھاتے ہوئے کہا کہ "ہاتھرس میں دردناک واقعہ کے بعد یوگی حکومت کے ذریعہ اپوزیشن سے قابل مذمت سلوک کیا گیا۔ یہ جمہوریت کے لیے شرمناک حالت ہے۔ اپوزیشن کو کچلا جا رہا ہے۔ ہر مخالفت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی گئے، ان کے ساتھ بدتمیزی ہوئی، ترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ پولس نے غلط سلوک کیا، سماجوادی پارٹی کےلوگ گئے تو غنڈوں کی فوج تیار کرا کر ان پر پتھراؤ کرایا گیا۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ آپ سبھی نے دیکھا ہے۔"

جینت چودھری نے کہا کہ حکومت کے تحفظ میں پل رہے غنڈے، دلال ہاتھرس متاثرہ کنبہ پر طرح طرح کا دباؤ بنا رہے ہیں۔ اسے بین الاقوامی سازش کا حصہ بتا رہے ہیں۔ فیملی دہشت میں ہے۔ حکومت تحفظ کا ڈرامہ کر رہی ہے۔ ان کے گھر میں جھانک کر دیکھو یوگی جی، بے حد غریب فیملی ہے۔ ان کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں ہے۔ جو تھا وہ چھین لیا گیا۔ بغیر فیملی کے نصف رات میں لاش جلا دی گئی، کیا سماج اس کو قبول کر سکتا ہے۔

مہاپنچایت میں شامل آئی این ایل ہریانہ کے چیف جنرل سکریٹری ابھے سنگھ چوٹالہ نے کہا کہ جینت چودھری حق کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ یہاں پر انھوں نے سیاسی طور پر لوگوں کے درمیان جا کر متحد کیا اور ان کو طاقت دی۔ آج پھر وقت ایسا آیا ہے کہ جس طرح چرن سنگھ نے یو پی کے کسانوں کو ایک برادری کی شکل میں جمع کیا تھا، اسی طرح جینت نے ان کو ایک اسٹیج پر لانے کا کام کر دکھایا ہے۔ بی جے پی حکومتوں نے لاٹھی اور گولی کے زور پر کسانوں پر مظالم ڈھایا ہے۔

سماجوادی پارٹی لیڈر اور بدایوں کے سابق رکن پارلیمنٹ دھرمیندر سنگھ یادو نے کہا کہ ہاتھرس میں متاثرہ فیملی سے ملنے جاتے ہوئے جینت چودھری پر لاٹھی چارج قابل مذمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ "میں آج یہاں پر اپنے لیڈر اکھلیش یادو کا پیغام لے کر آیا ہوں، اس میں انھوں نے کہا کہ جینت چودھری پر چلائی گئی لاٹھی کسان کے وقار اور چودھری چرن سنگھ کے نظریہ پر ماری گئی ہے۔ سماجوادی پارٹی پوری طرح سے اجیت سنگھ اور جینت چودھری کے ساتھ کھڑی ہے۔"


Share: